السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
جماع أبواب من تجوز شهادته، ومن لا تجوز من الأحرار البالغين العاقلين المسلمين باب: آزاد، بالغ، عاقل مسلمانوں میں سے جن کی گواہی جائز ہے اور جن کی جائز نہیں ان کے جامع ابواب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ سُوَيْدٍ، يَقُولُ: أَتَيْنَا عَبْدَ اللهِ يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثَيْنِ، أَحَدُهُمَا: عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ عَنْ نَفْسِهِ، فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ ⦗٣١٨⦘ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ "، قَالَ: " بِأَرْضِ فَلَاةٍ دَوِيَّةٍ وَمَهْلَكَةٍ وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ، فَنَزَلَ فِيهَا، فَنَامَ وَرَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ، فَذَهَبَ فِي طَلَبِهَا، فَلَمْ يَقْدِرْ عَلَيْهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ مِنَ الْعَطَشِ، فَقَالَ: وَاللهِ لَأَرْجِعَنَّ فَلَأَمُوتَنَّ حَيْثُ كَانَ رَحْلِي، فَرَجَعَ فَنَامَ وَاسْتَيْقَظَ، وَإِذَا رَاحِلَتُهُ عِنْدَ رَأْسِهِ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ ".حارث بن سوید فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، انہوں نے ہمیں دو احادیث بیان کیں: ایک نبی ﷺ سے مرفوع بیان کی اور دوسری اپنی جانب سے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے، جو جنگلی سفر میں ہلاکت کی جگہ پر تھا۔ اس کی سواری پر کھانا پینا موجود تھا۔ وہ قیام کی غرض سے اترا، آرام کرنے کے بعد بیدار ہوا تو سواری غائب تھی۔ تلاش کرنے پر اس کو پا نہ سکا۔ اس کو پیاس نے تنگ کیا۔ اس نے کہا: میں اپنی سواری والی جگہ واپس پلٹ جاؤں گا یہاں تک کہ موت آ جائے۔ وہ اس جگہ پر آ کر سو گیا۔ جب بیدار ہوا، اس کی سواری موجود تھی اور اس کا کھانا پینا بھی تھا۔“ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مومن بندہ جب گناہ دیکھتا ہے تو وہ اپنے آپ کو پہاڑ کے نیچے تصور کرتا ہے کہ کہیں اس کے اوپر نہ گر جائے اور گناہ گار اپنے گناہ کو اس طرح خیال کرتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی ہو، وہ اپنی ناک پر ہاتھ پھیر دیتا ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: فرح کی نسبت اللہ کی جانب ہے۔ اس سے مراد اللہ کی رضا و قبولیت ہے جیسے ﴿كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 53] ”ہر گروہ جو اس کے پاس ہے اس پر راضی ہے۔“ جو دارالسلام کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے، اللہ کی مشیت پر ہے کہ معاف کرے یا سزا دے۔