السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : النكول، ورد اليمين باب: قسم سے انکار کرنے اور مدعی پر قسم لوٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20741
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ضُمَيْرَةَ بْنِ أَبِي ضُمَيْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " الْيَمِينُ مَعَ الشَّاهِدِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَالْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ إِذَا كَانَ قَدْ خَالَطَهُ، فَإِنْ نَكَلَ حَلَفَ الْمُدَّعِي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”قسم گواہ کے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر دلیل نہ ہو تو پھر قسم اس پر ہے جس کے خلاف دعویٰ کیا گیا ہے۔ جب معاملہ خلط ملط ہو جائے یا اگر وہ انکار کرے تو قسم مدعی پر ہے۔“