السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: البينة العادلة أحق من اليمين الفاجرة باب: عادل گواہی جھوٹی قسم سے زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 20731
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ نَاصِرُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: " مَنِ ادَّعَى قَضَائِي فَهُوَ عَلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَ بِبَيِّنَةٍ، الْحَقُّ أَحَقُّ مِنْ قَضَائِي، الْحَقُّ أَحَقُّ مِنْ يَمِينٍ فَاجِرَةٍ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن سیرین رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «مَنْ ادَّعَى قَضَاءً قَضَيْتُ بِهِ، فَهُوَ عَلَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَ بِبَيِّنَةٍ، وَالْحَقُّ أَحَقُّ مِنْ قَضَائِي، وَالْحَقُّ أَحَقُّ مِنَ الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ» ”جس نے میرے فیصلے کا دعویٰ کیا، وہ اس پر ہی ہے یہاں تک کہ دلیل لے آئے۔ میرے فیصلے سے حق زیادہ مناسب ہے اور جھوٹی قسم سے بھی حق زیادہ مناسب ہے۔“