حدیث نمبر: 20730
حَدَّثَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيِّ قَالَ: أَخْرَجَ إِلَيْنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ كِتَابًا وَقَالَ: هَذَا كِتَابُ عُمَرَ إِلَى أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَهُ، وَفِيهِ: " وَاجْعَلْ لِلْمُدَّعِي أَمَدًا يَنْتَهِي إِلَيْهِ، فَإِنْ أَحْضَرَ بَيِّنَةً، وَإِلَّا وَجَّهْتَ عَلَيْهِ الْقَضَاءَ، فَإِنَّ ذَلِكَ أَجْلَى لِلْعَمَى، وَأَبْلَغُ فِي الْعُذْرِ ".
حافظ ثناء اللہ

ادریس اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن ابی بردہ رحمہ اللہ نے ایک خط نکالا اور کہنے لگے: یہ خط حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب ہے، اس میں تذکرہ تھا کہ آپ مدعی کو مہلت دیں، اگر وہ دلیل لے آئے تو ٹھیک وگرنہ فیصلہ اس کے خلاف کر دیا جائے، یہ مدت اس کے عذر کو ختم کر دے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20730
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم برقم: 20283»