حدیث نمبر: 20727
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِذَا أَحْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكَانَةَ فِي الطَّلَاقِ فَهَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْيَمِينَ فِي الطَّلَاقِ كَمَا هِيَ فِي غَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور جب رسول اللہ ﷺ نے سیدنا رکانہ رضی اللہ عنہ سے طلاق کے معاملے میں قسم لی، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ طلاق میں بھی قسم اسی طرح ہے جس طرح دوسرے معاملات میں ہوتی ہے۔“

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، ثنا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى: بِالْيَمِينِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ. أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ وَهَذَا يَتَنَاوَلُ كُلَّ مُدَّعًى عَلَيْهِ، إِلَّا مَا قَامَ دَلِيلُهُ.
حافظ ثناء اللہ

ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے لکھا کہ نبی ﷺ نے ”مدعی علیہ پر قسم ڈالی تھی۔“
(ب) نافع بن عمر کی حدیث میں ہے کہ ”ہر مدعیٰ علیہ پر قسم ہے جب تک وہ اس کے پاس دلیل نہ ہو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الشهادات / حدیث: 20727
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»