السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في قول الله عز وجل: {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان: ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی یہ ہے کہ تم میں سے دو ثقہ (معتبر) آدمی گواہ ہوں یا تمہارے غیروں (غیر مسلموں) میں سے دو اور شخص ہوں“۔
وَمَعْنَى الْآيَةِ حِينَئِذٍ مَا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ يَزِيدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ مَعْرُوفٍ، عَنْ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ، فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ ⦗٢٧٧⦘ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ} [المائدة: ١٠٦] يَقُولُ: شَاهِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ، مِنْ أَهْلِ دِينِكُمْ، أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ،، يَقُولُ: يَهُودِيَّيْنِ أَوْ نَصْرَانِيَّيْنِ. قَوْلُهُ: {إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ} [المائدة: ١٠٦] وَذَلِكَ أَنَّ رَجُلَيْنِ نَصْرَانِيَّيْنِ مِنْ أَهْلِ دَارِينَ، أَحَدُهُمَا تَمِيمٌ، وَالْآخَرُ عَدِيٌّ، صَحِبَهُمَا مَوْلًى لِقُرَيْشٍ فِي تِجَارَةٍ، وَرَكِبُوا الْبَحْرَ، وَمَعَ الْقُرَشِيِّ مَالٌ مَعْلُومٌ قَدْ عَلِمَهُ أَوْلِيَاؤُهُ مِنْ بَيْنِ آنِيَةٍ وَبِزَوْرَقَةٍ، فَمَرِضَ الْقُرَشِيُّ، فَجَعَلَ الْوَصِيَّةَ إِلَى الدَّارِيَّيْنِ، فَمَاتَ، فَقَبَضَ الدَّارِيَّانِ الْمَالَ، فَلَمَّا رَجَعَا مِنْ تِجَارَتِهِمِا جَاءَا بِالْمَالِ وَالْوَصِيَّةِ، فَدَفَعَاهُ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ وَجَاءَا بِبَعْضِ مَالِهِ، فَاسْتَنْكَرَ الْقَوْمُ قِلَّةَ الْمَالِ، فَقَالُوا لِلدَّارِيَّيْنِ: إِنَّ صَاحِبَنَا قَدْ خَرَجَ مَعَهُ بِمَالٍ كَثِيرٍ مِمَّا أَتَيْتُمَا بِهِ، فَهَلْ بَاعَ شَيْئًا أَوِ اشْتَرَى شَيْئًا، فَوَضَعَ فِيهِ، أَمْ هَلْ طَالَ مَرَضُهُ، فَأَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ؟ قَالَا: لَا، قَالُوا: إِنَّكُمَا قَدْ خُنْتُمَا لَنَا، فَقَبَضُوا الْمَالَ، وَرَفَعُوا أَمْرَهُمْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ} [المائدة: ١٠٦] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَلَمَّا نَزَلَتْ أَنْ يُحْبَسَا بَعْدَ الصَّلَاةِ أَمْرُهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَا بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَحَلَفَا بِاللهِ رَبِّ السَّمَاوَاتِ، وَرَبِّ الْأَرْضِ، مَا تَرَكَ مَوْلَاكُمْ مِنْ مَالٍ إِلَّا مَا أَتَيْنَاكُمْ بِهِ، وَإِنَّا لَا نَشْتَرِي بِأَيْمَانِنَا ثَمَنًا مِنَ الدُّنْيَا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى، وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللهِ إِنَّا إِذًا لَمِنَ الْآثِمِينَ، فَلَمَّا حلَفَا خُلِّيَ سَبِيلُهُمَا، ثُمَّ إِنَّهُمْ وَجَدُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِنَاءً مِنْ آنِيَةِ الْمَيِّتِ، وَأَخَذُوا الدَّارِيَّيْنِ فَقَالَا: اشْتَرَيْنَاهُ مِنْهُ فِي حَيَاتِهِ، وَكَذِبَا، فَكُلِّفَا الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَقْدِرَا عَلَيْهَا، فَرَفَعُوا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَإِنْ عُثِرَ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَإِنِ اطُّلِعَ {عَلَى أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا} [المائدة: ١٠٧] يَعْنِي الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ: إِنْ كَانَا كَتَمَا حَقًّا {فَآخَرَانِ} [المائدة: ١٠٧] مِنْ أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ {يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللهِ} [المائدة: ١٠٧]، يَقُولُ: فَيَحْلِفَانِ بِاللهِ إِنَّ مَالَ صَاحِبِنَا كَانَ كَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ الَّذِي نَطْلُبُ قِبَلَ الدَّارِيَّيْنِ لَحَقٌّ {وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ} [المائدة: ١٠٧] فَهَذَا قَوْلُ الشَّاهِدَيْنَ، أَوْلِيَاءِ الْمَيِّتِ حِينَ اطُّلِعَ عَلَى خِيَانَةِ الدَّارِيَّيْنِ، يَقُولُ اللهُ تَعَالَى: {ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَى وَجْهِهَا} [المائدة: ١٠٨] يَعْنِي االدَّارِيَّيْنِ وَالنَّاسَ أَنْ يَعُودُوا لِمِثْلِ ذَلِكَ "..مقاتل بن حیان رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اے ایمان والو! تم آپس میں گواہی دو۔ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے تو وصیت کے وقت تمہارے (دین) والوں میں سے دو عادل انسان موجود ہوں“ کے متعلق کہا کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”یا تمہارے علاوہ (یعنی غیر مسلموں میں سے) دو آدمی موجود ہوں“، یعنی دو یہودی یا دو عیسائی۔ ﴿إِنْ أَنْتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر تم سفر میں ہو۔“ (اس کا پس منظر یہ ہے کہ) دارین کے رہنے والے دو نصرانی آدمی تھے، ایک کا نام تمیم اور دوسرے کا عدی تھا۔ قریش کا ایک آزاد کردہ غلام ایک تجارتی سفر میں ان کے ساتھ ہو گیا اور وہ سمندر میں سوار ہوئے۔ قریشی کے پاس معلوم مال تھا، اس کے ورثاء برتن اور سامان وغیرہ کو جانتے تھے کہ اتنا ہے۔ قریشی بیمار ہوا تو اس نے ان دونوں داریوں کو اپنا وصی بنا دیا اور فوت ہو گیا۔ ان دونوں نے اس کے مال پر قبضہ کر لیا۔ جب وہ تجارتی سفر سے واپس لوٹے تو انہوں نے اس کا مال اور وصیت میت کے ورثاء کے حوالے کر دی اور اس کا کچھ ہی مال واپس لائے۔ قوم نے مال کی کمی کو ناگوار جانا۔ انہوں نے دونوں داریوں سے کہا کہ ہمارا ساتھی اس سے کہیں زیادہ مال لے کر نکلا تھا جو تم لے آئے ہو۔ کیا اس نے کوئی چیز خریدی یا فروخت کی تھی جس میں اسے نقصان ہوا، یا اس کی بیماری لمبی ہو گئی تو اس نے اپنے اوپر خرچ کیا؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ پھر تم نے ہم سے خیانت کی ہے۔ انہوں نے مال قبضے میں لیا اور معاملہ نبی ﷺ تک لے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ﴾ [سورة المائدة: 106] آخر آیت تک نازل فرما دی۔ جب یہ حکم نازل ہوا کہ ان دونوں کو نماز کے بعد روکا جائے تو نبی ﷺ نے انہیں حکم دیا، چنانچہ وہ نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور آسمانوں اور زمین کے رب اللہ کی قسم اٹھائی کہ تمہارے غلام نے صرف یہی مال چھوڑا تھا جو ہم تمہارے پاس لائے ہیں، اور ہم اپنی قسموں کے بدلے دنیا کی کوئی قیمت نہیں لیتے، ﴿وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ وَلَا نَكْتُمُ شَهَادَةَ اللَّـهِ إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الْآثِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 106] ”اگر وہ قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم اللہ کی گواہی کو نہیں چھپائیں گے، تب تو ہم گناہ گار ہو جائیں گے۔“
جب انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو ان کو چھوڑ دیا گیا۔ پھر اس کے بعد انہیں میت کے برتنوں میں سے ایک برتن مل گیا۔ انہوں نے پھر ان دونوں داریوں کو پکڑ لیا۔ انہوں نے کہا: یہ تو ہم نے اس کی زندگی میں اس سے خریدا تھا، اور انہوں نے جھوٹ بولا۔ جب ان سے گواہی طلب کی گئی تو وہ اس سے قاصر رہے۔ پھر یہ معاملہ نبی ﷺ کے پاس لے جایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمایا: ﴿فَإِنْ عُثِرَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اگر اطلاع ہو جائے۔“ ﴿عَلَىٰ أَنَّهُمَا اسْتَحَقَّا إِثْمًا﴾ [سورة المائدة: 107] یعنی دونوں داری گناہ گار ہیں، اگر انہوں نے کوئی حق چھپایا ہو۔ ﴿فَآخَرَانِ﴾ میت کے ورثاء میں سے۔ ﴿يَقُومَانِ مَقَامَهُمَا مِنَ الَّذِينَ اسْتَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْأَوْلَيَانِ فَيُقْسِمَانِ بِاللَّـهِ﴾ [سورة المائدة: 107] ”وہ اللہ کی قسم اٹھائیں کہ ہمارے ساتھی کا فلاں فلاں مال تھا اور ہم جو دونوں داریوں سے مطالبہ کر رہے ہیں وہ حق ہے۔“ ﴿وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ﴾ [سورة المائدة: 107] ”اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی، ورنہ تو ہم ظالموں میں سے ہوں گے۔“ یہ میت کے ورثاء میں سے دونوں گواہوں کی بات ہے، جب انہیں دونوں داریوں کی خیانت کی اطلاع ملی۔ ﴿ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَن يَأْتُوا بِالشَّهَادَةِ عَلَىٰ وَجْهِهَا﴾ [سورة المائدة: 108] ”یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ گواہی ٹھیک ٹھیک ادا کریں“ یعنی دونوں داری اور دوسرے لوگ، تاکہ وہ دوبارہ ایسا نہ کریں۔