السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : ما جاء في قول الله عز وجل: {يا أيها الذين آمنوا شهادة بينكم إذا حضر أحدكم الموت حين الوصية اثنان ذوا عدل منكم أو آخران من غيركم} باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان: ”اے ایمان والو! جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جائے تو وصیت کے وقت تمہارے آپس کی گواہی یہ ہے کہ تم میں سے دو ثقہ (معتبر) آدمی گواہ ہوں یا تمہارے غیروں (غیر مسلموں) میں سے دو اور شخص ہوں“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ: {اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا أَنَّهُ يَقُولُ: مِنَ الْقَبِيلَةِ أَوْ غَيْرِ الْقَبِيلَةِ "، زَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ الْحَسَنِ: " أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: " تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ "، وَرُوِّينَا، عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ قَالَ: " {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] قَالَ: " مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ غَيْرِ حَيِّهِ ". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ سَمِعْتُ مَنْ يَذْكُرُ أَنَّهَا مَنْسُوخَةٌ بِقَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: ٢] وَرَأَيْتُ مُفْتِيَّ أَهْلِ دَارِ الْهِجْرَةِ وَالسُّنَّةِ يُفْتُونَ أَنْ لَا تَجُوزَ شَهَادَةُ غَيْرِ الْمُسْلِمِينَ الْعُدُولِ، وَذَلِكَ قَوْلِي. وَحَكَى الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَأَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ، وَغَيْرِهِمَا أَنَّهُمْ أَبَوْا إِجَازَةَ شَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا مَعَ مَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي قَوْلِهِ: {أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} [المائدة: ١٠٦] مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، دَلَّ عَلَى أَنَّهُ اعْتَقَدَ فِيهَا النَّسْخَ أَوْ حَمَلَ الْآيَةَ عَلَى غَيْرِ الشَّهَادَةِ، كَمَا نَذْكُرُهُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى..یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] ”دو عدل والے یا تمہارے علاوہ دوسرے دو گواہ ہوں۔“ مسلمانوں قبیلہ کے یا غیر قبیلہ کے۔
کسی اور نے حسن رحمہ اللہ سے زائد بھی بیان کیا ہے کہ ﴿تَحْبِسُونَهُمَا مِنْ بَعْدِ الصَّلَاةِ﴾ [سورة المائدة: 106] ”تم ان دونوں کو نماز کے بعد روک لیتے ہو۔“
(ب) عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ سے مراد مسلمان ہی ہیں جو تمہارے قبیلہ کے علاوہ سے ہوں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض سے میں نے سنا کہ یہ منسوخ ہے، اللہ کے اس فرمان کی وجہ سے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ﴾ [سورة الطلاق: 2] ”دو عدل والے تم میں سے گواہی دیں۔“ میں نے دار الہجرت اور اہل سنت کے مفتیوں کو دیکھا ہے وہ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ عادل مسلمانوں کے علاوہ کسی کی گواہی جائز نہیں، اور یہی میرا قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے: ابن مسیب رحمہ اللہ، ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ذمی آدمی کی گواہی کا انکار کیا ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ بات، اس کے ساتھ جو ابن مسیب رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ اللہ کے قول: ﴿أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ﴾ [سورة المائدة: 106] کے بارے میں فرماتے تھے کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں، اس پر دلالت کرتی ہے کہ وہ اس آیت کو منسوخ سمجھتے تھے یا اس آیت کو گواہی کے علاوہ کسی دوسری چیز پر محمول کرتے تھے۔