السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من رد شهادة أهل الذمة باب: جس نے اہل ذمہ کی گواہی کو رد کیا۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] وَقَالَ: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ} [البقرة: 282] وَقَالَ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَفِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَاللهُ أَعْلَمُ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ اللهَ تَعَالَى إِنَّمَا عَنَى الْمُسْلِمِينَ دُونَ غَيْرِهِمْ مِنْ قِبَلِ أَنَّ رِجَالَنَا وَمَنْ نَرْضَى مِنْ أَهْلِ دِينِنَا لَا الْمُشْرِكُونَ لَقَطَعَ اللهُ تَعَالَى الْوَلَايَةَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ بِالدِّينِ. ⦗274⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَكَيْفَ يَجُوزُ أَنْ تُرَدَّ شَهَادَةُ مُسْلِمٍ بِأَنْ نَعْرِفَهُ يَكْذِبُ عَلَى بَعْضِ الْآدَمَيِّينَ وَنُجِيزَ شَهَادَةَ ذَمِّيٍّ وَهُوَ يَكْذِبُ عَلَى اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟ " قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَدْ أَخْبَرَنَا اللهُ بِأَنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا كِتَابَ اللهِ، وَكَتَبُوا الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ، وَقَالُوا: {هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا} [البقرة: 79] ".اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2]
اور فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ”اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ بنا لو۔“ [سورة البقرة: 282]
اور فرمایا: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو ان دونوں آیتوں میں، واللہ اعلم، اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے صرف مسلمان مراد لیے ہیں نہ کہ ان کے علاوہ دوسرے لوگ، اس وجہ سے کہ ہمارے مرد اور جنہیں ہم پسند کرتے ہیں وہ ہمارے اہل دین ہی ہیں، نہ کہ مشرکین، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کی بنیاد پر ہمارے اور ان کے درمیان دوستی کا رشتہ منقطع کر دیا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان کی گواہی تو اس بنا پر رد کر دی جائے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کسی انسان پر جھوٹ بولتا ہے، اور ایک ذمی کی گواہی کو ہم جائز قرار دے دیں حالانکہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے؟“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو بدل ڈالا، اور اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھی اور کہا: ﴿هَذَا مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ ”یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ اس کے ذریعے تھوڑی سی قیمت حاصل کریں۔“ [سورة البقرة: 79]“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: " يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أَنْزَلَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ أَحْدَثُ الْأَخْبَارِ بِاللهِ؟ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ، وَقَدْ حَدَّثَكُمُ اللهُ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ قَدْ بَدَّلُوا مَا كَتَبَ اللهُ، وَغَيَّرُوا، وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكُتُبَ، وَقَالُوا: هُوَ مِنْ عِنْدِ اللهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا، أَفَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مُسَاءَلَتِهِمْ؟ فَلَا وَاللهِ مَا رَأَيْنَا رَجُلًا مِنْهُمْ قَطُّ يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ "..عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اے مسلمانو کا گروہ! تم اہل کتاب سے کیوں کر سوال کرتے ہو، حالانکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب تمہارے پاس موجود ہے، جو خالص تم پڑھتے ہو اس کے اندر ملاوٹ نہیں، حالانکہ اللہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب نے اللہ کی نازل کردہ کتاب میں رد و بدل کر دیا اور بذات خود کتاب تحریر کر لی اور انہوں نے کہہ دیا: ﴿هَذَا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾ [سورة البقرة: 79] ”یہ اللہ کی طرف سے ہے، تاکہ تھوڑی قیمت وصول کریں۔“ کیا تمہارے اہل علم حضرات نے ان سے سوال کرنے سے منع نہیں کیا؟ اللہ کی قسم! کبھی ہم نے نہیں دیکھا کہ وہ تم سے سوال کریں جو تمہارے اوپر نازل کیا گیا۔