السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من رد شهادة الصبيان ومن قبلها في الجراح ما لم يتفرقوا باب: جس نے بچوں کی گواہی رد کی اور جس نے زخمی کرنے کے معاملے میں ان کی گواہی اس وقت تک قبول کی جب تک وہ منتشر نہ ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 20611
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّنْعَانِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: أَرْسَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ: " قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى "، قَالَ: فَأَرْسَلْتُ إِلَى ابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسْأَلُهُ، فَقَالَ: " بِالْحَرِيِّ إِنْ سُئِلُوا أَنْ يَصْدُقُوا "، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ الْقَضَاءَ إِلَّا عَلَى مَا قَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ ".حافظ ثناء اللہ
ابن جریج، حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا تاکہ بچوں کی شہادت کے بارے میں سوال کروں، انہوں نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [سورة البقرة: 282] ”جو گواہوں میں سے تم پسند کرو۔“ یہ ان میں سے نہیں ہیں جن کو ہم پسند کرتے ہیں۔
میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے بھی یہی سوال کیا، انہوں نے کہا: ”اگر سوال کیا جائے تو پھر سچ بھی بولا جائے۔“ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر میں نے سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی بات پر فیصلہ کر لیا۔