السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : من رد شهادة الصبيان ومن قبلها في الجراح ما لم يتفرقوا باب: جس نے بچوں کی گواہی رد کی اور جس نے زخمی کرنے کے معاملے میں ان کی گواہی اس وقت تک قبول کی جب تک وہ منتشر نہ ہوئے ہوں۔
حدیث نمبر: 20610
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، وَأَبُوحَازِمٍ الْحَافِظُ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ شَهَادَةِ الصِّبْيَانِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَلَيْسُوا مِمَّنْ نَرْضَى، لَا تَجُوزُ ".حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار، ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو خط لکھا اور بچوں کی شہادت کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے جواباً تحریر کیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ [سورة البقرة: 282] ”یہ پسندیدہ گواہ نہیں اس لیے ان کی گواہی درست نہیں ہے۔“