السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: وجوه العلم بالشهادة باب: گواہی کا علم حاصل ہونے کے مختلف پہلوؤں (طریقوں) کا بیان۔
حدیث نمبر: 20587
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَرِهَ شَهَادَةَ الْأَعْمَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَإِذَا كَانَ هَذَا هَكَذَا، كَانَ الْكِتَابُ أَحْرَى أَنْ لَا يَحِلَّ لِأَحَدٍ يَشْهَدُ عَلَيْهِ ".حافظ ثناء اللہ
یونس حضرت حسن رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اندھے کی شہادت کو ناپسند کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب اس طرح ہو تو لکھنا زیادہ مناسب ہے۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی پر گواہی دے۔