السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: شهادة القاذف باب: قاذف (پاکدامن پر تہمت لگانے والے) کی گواہی کا بیان۔
حدیث نمبر: 20555
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ حُصَيْنٌ، قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا جُلِدَ حَدًّا فِي قَذْفٍ بِالرِّيبَةِ، فَلَمَّا فُرِغَ مِنْ ضَرْبِهِ أَحْدَثَ تَوْبَةً، قَالَ: أَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَأَتُوبُ إِلَيْهِ مِنْ قَذْفِ الْمُحْصَنَاتِ، فَلَقِيتُ أَبَا الزِّنَادِ فَأَخْبَرْتُهُ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِي: " الْأَمْرُ عِنْدَنَا إِذَا رَجَعَ عَنْ قَوْلِهِ وَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ، قُبِلَتْ شَهَادَتُهُ " قَالَ الشَّيْخُ: " وَرَوَى أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ قَوْلَهُ فِي شَهَادَةِ الْقَاذِفِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا حصین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کو شک کی بنیاد پر تہمت کی حد لگائی گئی۔ جب حد سے فارغ ہوئے تو اس نے توبہ کر لی۔ اس نے کہا: ”میں اللہ سے بخشش اور توبہ طلب کرتا ہوں، پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے۔“ راوی کہتے ہیں: میں ابوالزناد رحمہ اللہ سے ملا اور یہ بات بیان کی تو وہ فرمانے لگے: ”ہمارے ہاں یہ ہے کہ جب وہ اپنی بات سے پلٹ جائے اور توبہ کر لے تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔“
(ب) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عبداللہ بن عتبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا قول تہمت لگانے والے کی گواہی کے بارے میں ہے۔