السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: شهادة القاذف باب: قاذف (پاکدامن پر تہمت لگانے والے) کی گواہی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ أَثِقُ بِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَمَّا جَلَدَ الثَّلَاثَةَ اسْتَتَابَهُمْ، فَرَجَعَ اثْنَانِ، فَقَبِلَ شَهَادَتَهُمَا، وَأَبَى أَبُو بَكْرَةَ أَنْ يَرْجِعَ فَرَدَّ شَهَادَتَهُ ".سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تین اشخاص کو کوڑے لگائے، پھر ان سے توبہ کا مطالبہ کیا؛ دو نے توبہ کر لی تو انہوں نے ان کی شہادت قبول کر لی، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا تو ان کی شہادت بھی قبول نہ ہوئی۔
(ب) سعید بن مسیب رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ، شبل اور نافع سے کہا: ”جس نے توبہ کر لی اس کی شہادت قبول کی جائے گی۔“
(ج) سعید بن مسیب رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے توبہ کا مطالبہ کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: سعید بن مسیب رحمہ اللہ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان افراد سے کہا جنہوں نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کے خلاف گواہی دی تھی: ”تم توبہ کرو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی۔“ ان میں سے دو نے توبہ کر لی، ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے توبہ سے انکار کر دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی شہادت قبول نہیں کی۔