السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: : لا يحيل حكم القاضي على المقضي له، والمقضي عليه، ولا يجعل الحلال على واحد منهما حراما، ولا الحرام على واحد منهما حلالا باب: قاضی کا فیصلہ، جس کے حق میں فیصلہ ہوا اور جس کے خلاف فیصلہ ہوا، ان کے لیے حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا، اور نہ ہی وہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے حلال کو حرام کرتا ہے، اور نہ ہی حرام کو حلال بناتا ہے۔
حدیث نمبر: 20534
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبِسْطَامِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ - يَعْنِي: ابْنَ زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ أَشْكَابٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ خُصُومَةً بِبَابِ حُجْرَتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ: " إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَإِنَّهُ يَأْتِينِي الْخَصْمُ، فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ أَنْ يَكُونَ أَبْلَغَ مِنْ بَعْضٍ، فَأَحْسِبَ أَنَّهُ صَادِقٌ، فَأَقْضِيَ لَهُ بِذَلِكَ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَلْيَأْخُذْهَا أَوْ لِيَتْرُكْهَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ يَعْقُوبَ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ سے نقل فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنے حجرے کے دروازے کے قریب جھگڑا سنا۔ آپ باہر آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں انسان ہوں۔ میرے پاس جھگڑا آتا ہے، شاید بعض اپنے دلائل کو احسن انداز سے بیان کر دے، میں اس کو سچا خیال کروں اور اس کے حق میں فیصلہ کر دوں تو وہ اپنے مسلمان بھائی کا حق وصول نہ کرے؛ کیونکہ یہ جہنم کا ٹکڑا ہے۔“