السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الشهادات— گواہیوں کا بیان
باب: الشهادة في الزنا باب: زنا کے معاملے میں گواہی کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ كَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى: سَلْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَجُلٍ دَخَلَ بَيْتَهُ، فَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلٌ، فَقَتَلَهَا، أَوْ قَتَلَهُ؟ فَسَأَلَهُ أَبُو مُوسَى، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا ذَكَّرَكَ هَذَا؟ إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ مَا هُوَ بِأَرْضِنَا؟ عَزَمْتُ عَلَيْكَ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ مُعَاوِيَةُ فِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْهَا، قَالَ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ: " إِنْ جَاءَنَا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ، وَإِلَّا دَفَعَ بِرُمَّتِهِ "، قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: " يُقْتَلُ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ مَضَى مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَشَهِدَ ثَلَاثَةٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالزِّنَا، وَلَمْ يُثْبِتِ الرَّابِعُ، فَجَلَدَ الثَّلَاثَةَ.سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھیں جو اپنے گھر میں داخل ہوتا ہے، اس کی عورت کے ساتھ دوسرا آدمی ہے، وہ اس عورت کو یا مرد کو قتل کر دے۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کو یہ بات کس نے یاد دلائی؟ یہ تو ایسی چیز ہے جو ہمارے علاقے میں نہیں ہوئی، میں آپ کو قسم دیتا ہوں (کہ بتائیں)۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے مجھے خط لکھا کہ میں اس کے بارے میں آپ سے پوچھ لوں۔ فرمایا: میں ابوالحسن ہوں: اگر وہ چار گواہ لے آئے (تو ٹھیک)، وگرنہ اسے رسی سمیت (قصاص کے لیے) حوالے کر دیا جائے گا۔ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں: قتل کیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تین آدمیوں نے ایک شخص کے خلاف زنا کی گواہی دی اور چوتھے نے گواہی ثابت نہ کی تو انہوں نے ان تینوں کو کوڑے لگائے۔