السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل الظهر في غير شدة الحر باب: شدید گرمی نہ ہونے کی صورت میں ظہر جلدی پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَإِنَّ أَحَدَنَا يَذْهَبُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَيَرْجِعُ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ، وَنَسِيتُ الْمَغْرِبَ، وَكَانَ لَا يُبَالِي بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ " قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " قَالَ: " وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا، وَكَانَ يُصَلِّي الصُّبْحَ وَيَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ الَّذِي كَانَ يَعْرِفُهُ، وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا مِنَ السِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرِينَ، عَنْ شُعْبَةَ.سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ظہر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ ہم میں سے کوئی مدینہ کے دوسرے کنارے سے ہو کر واپس آ جاتا، لیکن سورج ابھی صاف اور روشن ہوتا اور مغرب کا وقت میں بھول گیا اور عشاء کی نماز ایک تہائی رات تک مؤخر کیا کرتے تھے، پھر ابوبرزہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پھر فرمانے لگے کہ آپ ﷺ اسے آدھی رات تک (مؤخر) فرماتے تھے اور عشاء سے پہلے سونے کو ناپسند فرماتے تھے، اسی طرح عشاء کے بعد (دنیاوی) باتیں کرنا بھی آپ کو ناپسند تھا۔ آپ ﷺ صبح کی نماز ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کو پہچان سکتا تھا اور فجر کی نماز میں آپ ﷺ ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرماتے تھے۔