السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: القاضي لا يقبل شهادة الشاهد إلا بمحضر من الخصم المشهود عليه، ولا يقضي على الغائب باب: قاضی گواہ کی گواہی اس فریق کی موجودگی کے بغیر قبول نہ کرے جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہو اور نہ ہی کسی غائب شخص کے خلاف فیصلہ صادر کرے۔
حدیث نمبر: 20488
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شَرِيكٌ، وَزَائِدَةُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالُوا: ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قُلْتُ: تَبْعَثُنِي وَأَنَا حَدِيثُ السِّنِّ لَا عِلْمَ لِي بِكَثِيرٍ مِنَ الْقَضَاءِ؟ فَقَالَ لِي: " إِذَا أَتَاكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِ لِلْأَوَّلِ حَتَّى تَسْمَعَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ، فَإِنَّكَ إِذَا سَمِعْتَ مَا يَقُولُ الْآخَرُ عَرَفْتَ كَيْفَ تَقْضِي، إِنَّ اللهَ سَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، وَيَهْدِي قَلْبَكَ "، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا بَعْدُ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے مجھے یمن روانہ کیا تو میں نے کہا: آپ ﷺ مجھے قاضی بنا کر روانہ کر رہے ہیں، حالانکہ مجھے قضا کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا: ”دو جھگڑا کرنے والوں کی بات سن کر فیصلہ کرنا۔ فیصلہ کا علم ہو جائے گا۔ اللہ تیری زبان کو ثابت رکھے گا اور تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس کے بعد میں اسی طرح فیصلہ کرتا رہا۔