السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: القاضي لا يقبل شهادة الشاهد إلا بمحضر من الخصم المشهود عليه، ولا يقضي على الغائب باب: قاضی گواہ کی گواہی اس فریق کی موجودگی کے بغیر قبول نہ کرے جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہو اور نہ ہی کسی غائب شخص کے خلاف فیصلہ صادر کرے۔
حدیث نمبر: 20487
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِي كِتَابِ السُّنَنِ لِأَبِي دَاوُدَ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ حَنَشٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ قَاضِيًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، تُرْسِلُنِي وَأَنَا ⦗٢٣٧⦘ حَدِيثُ السِّنِّ وَلَا عِلْمَ لِي بِالْقَضَاءِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ سَيَهْدِي قَلْبَكَ، وَيُثَبِّتُ لِسَانَكَ، فَإِذَا جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْكَ الْخَصْمَانِ فَلَا تَقْضِيَنَّ حَتَّى تَسْمَعَ مِنَ الْآخَرِ كَمَا سَمِعْتَ مِنَ الْأَوَّلِ، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يَتَبَيَّنَ لَكَ الْقَضَاءُ "، قَالَ: فَمَا زِلْتُ قَاضِيًا، أَوْ مَا شَكَكْتُ فِي قَضَاءٍ بَعْدُ. وَهَذَا يَتَنَاوَلُ الْمَوْضِعَ الَّذِي يَحْضُرُهُ الْخَصْمَانِ جَمِيعًا، وَبِمَعْنَاهُ رَوَاهُ غَيْرُ شَرِيكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن قاضی بنا کر روانہ کیا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نئی عمر والا ہوں۔ قضاۃ کا بھی علم نہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب اللہ تیرے دل کی رہنمائی فرمائے گا، تیری زبان کو ثابت رکھے گا۔ جب فیصلہ کے لیے بیٹھو تو دونوں کی بات سن لینے کے بعد فیصلہ فرمانا۔ یہ بات زیادہ مناسب ہے کہ آپ کے لیے فیصلہ واضح ہو جائے۔“ میں اس طرح ہمیشہ فیصلہ کرتا رہا یا مجھے فیصلے میں شک نہ ہوا۔