السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من أعطاها ليدفع بها عن نفسه، أو ماله ظلما، أو يأخذ بها حقا باب: جس شخص نے اپنی جان یا اپنے مال سے ظلم کو دفع کرنے کے لیے یا اپنا حق وصول کرنے کے لیے رشوت دی۔
حدیث نمبر: 20483
وَأَخْبَرَنَا ابْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا زَيْدٌ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: " لَيْسَتِ الرِّشْوَةُ الَّتِي يَأْثَمُ فِيهَا صَاحِبُهَا بِأَنْ يَرْشُوَ فَيَدْفَعَ عَنْ مَالِهِ وَدَمِهِ، إِنَّمَا الرِّشْوَةُ الَّتِي تَأْثَمُ فِيهَا أَنْ تَرْشُوَ لَتُعْطَى مَا لَيْسَ لَكَ ".حافظ ثناء اللہ
وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رشوت وہ نہیں جس میں اس کا دینے والا گناہ گار ہوتا ہے، اگر وہ اپنے مال و خون کی حفاظت کے لیے دیتا ہے تو گناہ گار نہیں ہے، اس رشوت میں انسان گناہ گار ہوتا ہے جو کسی کا حق لینے کے لیے دی جائے۔