السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في التعجيل بالصلوات في أوائل الأوقات باب: نمازوں کو ان کے ابتدائی اوقات میں جلدی ادا کرنے کی ترغیب کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَسْبَاطٍ وَثنا ابْنُ صَاعِدٍ قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَقْتُ الْأَوَّلُ رِضْوَانُ اللهِ، وَالْوَقْتُ الْآخِرُ عَفْوُ اللهِ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَنَا أَبُو أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ بْنِ حُمَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ هَكَذَا كَانَ يَقُولُ لَنَا ابْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَالصَّوَابُ مَا حَدَّثَنَاهُ ابْنُ صَاعِدٍ وَابْنُ أَسْبَاطَ عَلَى أَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَاطِلٌ إِنْ قِيلَ فِيهِ عَبْدُ اللهِ أَوْ عُبَيْدُ اللهِ قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِيَعْقُوبَ بْنِ الْوَلِيدِ الْمَدَنِيِّ وَيَعْقُوبُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَكَذَّبَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَسَائِرُ الْحُفَّاظِ وَنَسَبُوهُ إِلَى الْوَضْعِ نَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْخُذْلَانِ وَقَدْ رُوِيَ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ كُلُّهَا ضَعِيفَةٌ.(الف) سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اول وقت اللہ کی رضامندی ہے اور آخری وقت اللہ کا درگزر ہے۔“ (ب) ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کی ہم مثل حدیث ہے۔ (ج) ابو احمد (ابن عدی) رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن حمید ہمیں اس سند میں عبیداللہ ہی بیان کیا کرتے تھے، اور صحیح وہ ہے جو ابن صاعد اور ابن اسباط نے ہمیں بیان کیا ہے، البتہ یہ حدیث اس سند کے ساتھ باطل ہے، خواہ اس میں عبداللہ کہا جائے یا عبیداللہ۔ (د) شیخ کہتے ہیں کہ یہ حدیث یعقوب بن ولید مدنی ہی کے ذریعے پہچانی جاتی ہے۔ یعقوب منکر الحدیث ہے، یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ اور دیگر تمام حفاظ نے اسے جھوٹا کہا ہے اور اس کی طرف روایات گھڑنے کی نسبت کی ہے، ہم رسوائی سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ یہ حدیث دوسری اسناد سے بھی مروی ہے جو سب ضعیف ہیں۔