السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: القاضي يحكم بشيء فيكتب للمحكوم له بمسألته كتابا باب: قاضی کسی معاملے میں فیصلہ صادر کرے تو حق دار کے مطالبے پر اس کے حق میں فیصلے کی دستاویز لکھ دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20433
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أَنَّ أَبَا عُمَرَ الْحَوْضِيَّ، حَدَّثَهُمْ قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الْمَدِينَةَ، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الْأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنِ، وَأَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ بِهَا كِتَابًا، فَقَالُوا: لَا، حَتَّى تُعْطِيَ إِخْوَانَنَا مِنْ قُرَيْشٍ مِثْلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ میں ہمارے پاس آئے۔ انہوں نے ہمیں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کو بحرین کی زمین جاگیر دی ہے اور آپ ﷺ کا ارادہ تھا کہ ان کو لکھ کر دے دیں۔ انہوں نے کہا: نہیں، یہاں تک کہ قریشیوں کو بھی اس کے مثل دیا جائے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد تم ترجیح کو دیکھو گے، پھر صبر کرنا یہاں تک کہ مجھے ملو۔“