حدیث نمبر: 20420
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَخْتِمُ عَلَى وَصِيَّتِهِ، وَقَالَ: اشْهَدُوا عَلَى مَا فِيهَا، قَالَ: " لَا يَجُوزُ حَتَّى يَقْرَأَهَا، أَوْ تُقْرَأَ عَلَيْهِ فَيُقِرَّ بِمَا فِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ

ابراہیم رحمہ اللہ ایک آدمی کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ وہ وصیت پر مہر لگاتے تھے اور کہتے کہ اس پر گواہ ہو جاؤ۔ فرمایا: جائز نہیں کہ وہ بذات خود پڑھے یا اس کے سامنے پڑھا جائے۔ وہ جو اس میں ہے اس کا اقرار کرے۔
(ب) محمد بن یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو وصیت لکھتا، پھر اس پر مہر لگاتا اور وہ کہتا: اس پر گواہ بنو جو کچھ اس میں ہے۔ ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ اس کو باطل خیال کرتے اور قاضی اس کو جائز خیال نہیں کرتے تھے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20420
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»