السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
حدیث نمبر: 20399
وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عنِ ابنِ عُيَيْنَةَ عنِ ابنِ أَبِي نَجِيحٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ يَعْرِفُهُ "، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا أَعْرِفُهُ بِوَجْهِهِ، وَلَا أَعْرِفُهُ بِاسْمِهِ، قَالَ: " لَيْسَتْ تِلْكَ بِمَعْرِفَةٍ "، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا، وَهُوَ الصَّحِيحُ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گزرا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کو کون پہچانتا ہے؟“ ایک آدمی نے کہا: میں اس کے چہرے سے پہچانتا ہوں، لیکن اس کا نام نہیں جانتا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہچان نہیں ہے۔“