السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يرجع إليه في السؤال، يجب أن تكون معرفته باطنة متقادمة باب: جس شخص سے (گواہوں کے بارے میں) دریافت کیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ اس کی واقفیت اندرونی اور پرانی ہو۔
حدیث نمبر: 20398
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عَبَّادٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عنْ ابنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّ رَجُلٌ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ، فَقَالَ: " كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللهِ، أَتَعْرِفُهُ؟ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " مَا اسْمُهُ؟ "، قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " فَأَيْنَ مَنْزِلُهُ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: لَا أَدْرِي، قَالَ: " فَلَيْسَ هَذِهِ بِمَعْرِفَةٍ "، كَذَا قَالَ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس سے گزرا، وہ آپ ﷺ سے سوال کر رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن عمر رضی اللہ عنہما! کیا تو اس کو جانتا ہے؟“ میں نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا نام کیا ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”اس کا گھر کہاں ہے؟“ میں نے کہا: میں نہیں جانتا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ پہچان نہیں ہے۔“