السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : لا يقبل الجرح فيمن ثبتت عدالته إلا بأن يقفه على ما يجرحه به باب: جس شخص کی عدالت ثابت ہو اس پر جرح قبول نہیں کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ ان اسباب پر مطلع کرے جن کی بنیاد پر وہ جرح کر رہا ہے۔
حدیث نمبر: 20393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: " الْعَدْلُ فِي الْمُسْلِمِينَ مَنْ لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " وَهَذَا عِنْدَنَا فِيمَنْ ثَبَتَتْ عَدَالَتُهُ فَهُوَ عَلَى أَصْلِ الْعَدَالَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کو عادل ہی شمار کریں گے جب تک اس میں شک نہ پیدا ہو جائے
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک بھی جب تک عدالت ثابت ہے تو وہ عادل ہی ہے جب تک شک پیدا نہ ہو جائے۔