حدیث نمبر: 20392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ "، قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَقَالَ لِي: " أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟ "، قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ: فَثَابَ فِي الْبَيْتَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، ذَوُو عَدَدٍ، وَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ، لَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ وَقَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ؟ "، قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ "، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ ⦗٢١٢⦘ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ كَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنِ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْبَلْ قَوْلَ الْوَاقِعِ فِي مَالِكِ بْنِ الدُّخْشُنِ بِأَنَّهُ مُنَافِقٌ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؛ ثُمَّ لَمَّا بَيَّنَهُ، لَمْ يَرَهُ نِفَاقًا، فَرَدَّ عَلَيْهِ قَوْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ

محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نابینا ہوں اور اپنی قوم کا امام ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان وادی بہہ پڑتی ہے اور میں مسجد میں نہیں آسکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ ﷺ میرے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کرلوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عنقریب میں ایسا کر لوں گا۔“ عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبح کے وقت دن کے بلند ہونے کے بعد آپ ﷺ اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ نبی ﷺ نے اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہونے کے بعد بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: ”کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیرا۔ ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا اس کے لیے روکا۔ گھر کے افراد کو بلایا اور وہ جمع ہوگئے۔ کہنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ بعض نے کہا: یہ منافق ہے، اللہ اور رسول ﷺ سے محبت نہیں کرتا۔ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو، کیا اس نے کلمہ اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں پڑھا؟“ اس نے کہا: اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں: ہم تو اس کی خوشنودی اور خیر خواہی منافقین کی طرف دیکھتے ہیں تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے کلمہ پڑھا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔“ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے سوال کیا جو بنو سالم کے ایک آدمی ہیں اور ان کے سردار ہیں تو انھوں نے بھی محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تصدیق کی۔
(ب) زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مالک بن دخشن کے بارے میں قول کو قبول نہ کیا کہ وہ منافق ہے، یہاں تک کہ وضاحت ہوگئی کہ کون کہہ رہا ہے، جب اس کے نفاق کی نفی ہے تو آپ ﷺ نے اس کا قول رد کردیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20392
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»