السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مسألة القاضي عن أحوال الشهود ففي الناس بر وفاجر وأمين وخائن، وقد قال الله تعالى: ممن ترضون من الشهداء باب: قاضی کا گواہوں کے احوال دریافت کرنے کا بیان کیونکہ لوگوں میں نیک و بد اور امانت دار و خائن سب ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو“۔
حدیث نمبر: 20388
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ⦗٢١٠⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ " قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: لَا أَدْرِي أَذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ بَعْدَكُمْ قَوْمًا، يَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَنْذِرُونَ وَلَا يَفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمُ السِّمَنُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے میرا زمانہ بہترین ہے، پھر اس کے بعد والوں کا، پھر ان کے بعد آنے والوں کا، پھر ان کے بعد متصل لوگوں کا۔“ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے اپنے زمانہ کے بعد دو یا تین زمانوں کا تذکرہ کیا ہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بعد خیانت کرنے والے، بے ایمان لوگ ہوں گے۔ وہ گواہی دیں گے، حالانکہ گواہی ان سے طلب نہ کی جائے گی اور نذریں مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے اور ان کے اندر موٹاپا ظاہر ہوگا۔“