السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مسألة القاضي عن أحوال الشهود ففي الناس بر وفاجر وأمين وخائن، وقد قال الله تعالى: ممن ترضون من الشهداء باب: قاضی کا گواہوں کے احوال دریافت کرنے کا بیان کیونکہ لوگوں میں نیک و بد اور امانت دار و خائن سب ہوتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو“۔
حدیث نمبر: 20387
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا مُحَاضِرٌ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ، تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے زمانے کے لوگ بہترین ہیں، پھر وہ لوگ جو ان کے ساتھ متصل ہیں، پھر جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، پھر ایسی قوم آئے گی جن کی قسمیں گواہی سے سبقت لے جائیں گی اور ان کی گواہی قسم سے سبقت لے جائے گی۔“