السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: وعظ القاضي الشهود، وتخويفهم وتعريفهم عند الريبة، بما في شهادة الزور من كبير الإثم، وعظيم الوزر باب: قاضی کا گواہوں کو نصیحت کرنے، انہیں ڈرانے اور شک کی صورت میں انہیں جھوٹی گواہی کے بڑے گناہ اور عظیم بوجھ سے آگاہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20382
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْمُزَكِّي، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ " ثُمَّ ذَكَرَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ الْجُدِّيِّ قَالَ: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
شعبہ اپنی سند سے نقل فرماتے ہیں کہ ”کبیرہ گناہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے۔“