السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : لا يولي الوالي امرأة، ولا فاسقا، ولا جاهلا أمر القضاء باب: حاکم کسی عورت، فاسق یا جاہل شخص کو قضاء (فیصلہ کرنے) کا منصب نہ سونپے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي مَجْلِسِهِ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ حَدِيثًا، جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ وَمَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: سَمِعَ مَا قَالَ، فَكَرِهَ مَا قَالَ، وَقَالَ بَعْضٌ: لَمْ يَسْمَعْ، حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ قَالَ: " أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ؟ "، قَالَ: هَذَا أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا إِضَاعَتُهَا؟ قَالَ: " إِذَا أُسْنِدُ الْأَمْرُ إِلَى غَيْرِ أَهْلِهِ، فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ فُلَيْحٍ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ ایک مجلس میں قوم کا تذکرہ فرما رہے تھے۔ ایک دیہاتی نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ نبی ﷺ باتوں میں مصروف رہے۔ بعض لوگوں نے کہا جنہوں نے اس کی بات سنی تھی کہ نبی ﷺ نے اس کو ناپسند فرمایا ہے اور بعض نے کہا کہ آپ ﷺ نے اس کی بات سنی ہی نہیں۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اپنی بات مکمل کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کدھر ہے؟“ اس نے کہا: میں ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب امانت کا ضیاع شروع ہو جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! امانت کے ضیاع کا کیا مطلب؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب حکومت نا اہل لوگوں کے سپرد کر دی جائے گی تو قیامت کا انتظار کرو۔“