السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : لا يولي الوالي امرأة، ولا فاسقا، ولا جاهلا أمر القضاء باب: حاکم کسی عورت، فاسق یا جاہل شخص کو قضاء (فیصلہ کرنے) کا منصب نہ سونپے۔
حدیث نمبر: 20362
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ نَفَعَنِي اللهُ بِكَلِمَةٍ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَمَا كِدْتُ أَنْ أَلْحَقَ بِأَصْحَابِ الْجَمَلِ فَأُقَاتِلَ مَعَهُمْ، بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَهْلَ فَارِسٍ مَلَّكُوا عَلَيْهِمُ ابْنَةَ كِسْرَى فَقَالَ: " لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً ". لَفْظُ حَدِيثِ الْحَرْبِيِّ وَفِي رِوَايَةِ هِشَامٍ " مَلَّكُوا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے اس ایک کلمہ سے فائدہ دیا جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، جب قریب تھا کہ میں اصحابِ جمل سے ملتا اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کرتا۔ نبی ﷺ کو خبر ملی کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا حکمران بنا دیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ قوم ہرگز فلاح نہ پائے گی جنہوں نے اپنا حکمران عورت کو بنا لیا۔“
(ب) ہشام کی روایت میں ہے کہ انہوں نے اپنی حکومت عورت کو سونپ دی۔