❮
❯
حدیث نمبر: 20354
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ قَالَا: أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرُوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو هَاشِمٍ، قَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ: اثْنَانِ فِي النَّارِ، وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ: رَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَقَضَى بِهِ فَهُوَ فِي الْجَنَّةِ، وَرَجُلٌ قَضَى بَيْنَ النَّاسِ بِالْجَهْلِ فَهُوَ فِي النَّارِ، وَرَجُلٌ عَرَفَ الْحَقَّ فَجَارَ فَهُوَ فِي النَّارِ ". لَقُلْنَا: إِنَّ الْقَاضِيَ إِذَا اجْتَهَدَ فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: " اجْتِهَادُهُ بِغَيْرِ عَلِمٍ لَا يَهْدِيهِ إِلَى الْحَقِّ إِلَّا اتِّفَاقًا، فَلَمْ يَكُنْ مَأْذُونًا لَهُ فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ

ابوہاشم فرماتے ہیں: اگر وہ حدیث نہ ہوتی جو مجھے ابن بریدہ نے اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قاضی تین قسم کے ہیں: دو جہنمی اور ایک جنتی ہے؛ (1) حق کو پہچان کر اس کے مطابق فیصلہ کرنے والا، یہ جنتی ہے۔ (2) لوگوں کے درمیان جہالت کی بنا پر فیصلہ کرنے والا، وہ جہنمی ہے۔ (3) حق کو پہچان کر ظلم کرتا ہے، یہ بھی جہنمی ہے۔“ تو ہم کہتے: جب قاضی اجتہاد کرتا ہے تو پھر اس پر کوئی حرج نہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: بغیر علم کے اجتہاد حق تک نہیں پہنچاتا، اتفاقی طور پر ممکن ہے لیکن اس میں اس کو اجازت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20354
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»