السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20339
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو، يُحَدِّثُ عَنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً: عَنْ مُعَاذٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ قَالَ لَهُ: " كَيْفَ تَقْضِي إِذَا عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟ " قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللهِ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي كِتَابِ اللهِ؟ "، قَالَ: أَقْضِي بِسُنَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَإِنْ لَمْ تَجِدْهُ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللهِ؟ "، قَالَ: أَجْتَهِدُ بِرَأْيٍ، لَا آلُو، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "..حافظ ثناء اللہ
مکحول سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب روانہ کیا تو فرمایا: ”کیسے فیصلہ کرو گے جب فیصلہ آیا؟“ کہنے لگے: اللہ کی کتاب سے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو اللہ کی کتاب میں نہ پائے؟“ عرض کیا: رسول اللہ ﷺ کی سنت کے موافق۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو رسول اللہ ﷺ کی سنت میں نہ پائے؟“ تو کہنے لگے: اپنی رائے سے لیکن کچھ کمی نہ کروں گا۔ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر پھیرا اور فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ ﷺ کے قاصد کو اس چیز کی توفیق بخشی جس سے رسول اللہ ﷺ خوش ہو گئے۔“