السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يقضي به القاضي ويفتي به المفتي، فإنه غيرجائز له أن يقلد أحدا من أهل دهره، ولا أن يحكم أو يفتي بالاستحسان باب: قاضی کے فیصلے اور مفتی کے فتوے کا بیان، ان کے لیے اپنے زمانے کے کسی شخص کی تقلید کرنا یا استحسان کی بنیاد پر فیصلہ دینا یا فتویٰ دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 20337
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ خَلَّفْتُ فِيكُمْ مَا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا مَا أَخَذْتُمْ بِهِمَا، أَوْ عَمِلْتُمْ بِهِمَا، كِتَابُ اللهِ، وَسُنَّتِي، وَلَنْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہارے اندر وہ چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں کہ جب تک تم ان کو مضبوطی سے تھامو گے—یا فرمایا: عمل کرو گے—کبھی گمراہ نہ ہو گے۔ 1 اللہ کی کتاب 2 میری سنت۔“
”وہ ہرگز متفرق بھی نہ ہوں گے یہاں تک کہ وہ میرے پاس حوض پر آئیں گے۔“