حدیث نمبر: 20335
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " {فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: هُمْ وَأُمَرَاؤُهُمُ الَّذِينَ أُمِرُوا بِطَاعَتِهِمْ، {فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ} [النساء: 59] يَعْنِي - وَاللهُ أَعْلَمُ: إِلَى مَا قَالَ اللهُ وَالرَّسُولُ "، وَقَالَ {أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى} [القيامة: 36] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ فِيمَا عَلِمْتُ أَنَّ السُّدَى: الَّذِي لَا يُؤْمَرُ وَلَا يُنْهَى، وَمَنْ أَفْتَى أَوْ حَكَمَ بِمَا لَمْ يُؤْمَرْ بِهِ، فَقَدْ أَجَازَ لِنَفْسِهِ أَنْ يَكُونَ فِي مَعَانِي السُّدَى، قَالَ الشَّيْخُ: " وَرُوِّينَا عَنْ مُجَاهِدٍ فِي تَفْسِيرِ الْآيَتَيْنِ بِنَحْوِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”﴿فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ﴾ ”پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: وہ (لوگ) اور ان کے وہ امراء جن کی اطاعت کا انہیں حکم دیا گیا ہے، ﴿فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ وَالرَّسُولِ﴾ ”تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو“ [سورة النساء: 59] اس کا مطلب ہے، واللہ اعلم: اس بات کی طرف جو اللہ اور رسول نے فرمائی ہے۔“
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿أَيَحْسَبُ الْإِنْسَانُ أَنْ يُتْرَكَ سُدًى﴾ ”کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یوں ہی بے کار چھوڑ دیا جائے گا؟“ [سورة القيامة: 36]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”تو میرے علم کے مطابق اہل علم بالقرآن میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ ”سُدًى“ وہ ہے جسے نہ کسی بات کا حکم دیا جائے اور نہ کسی بات سے منع کیا جائے، اور جس نے ایسی بات کا فتویٰ دیا یا ایسا فیصلہ کیا جس کا اسے حکم نہیں دیا گیا، تو اس نے اپنے لیے یہ جائز کر لیا کہ وہ ”سُدًى“ (بے کار چھوڑے ہوئے) کے معنی میں داخل ہو جائے۔“
شیخ (امام بیہقی) رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہمیں امام مجاہد رحمہ اللہ سے ان دونوں آیتوں کی تفسیر میں اسی طرح کی بات روایت پہنچی ہے جیسی امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔“

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي: ابْنَ عَوْنٍ، وَيَعْلَى: يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَامَ فِينَا ذَاتَ يَوْمٍ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولُ رَبِّي فَأُجِيبَهُ، وَإِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ، فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ، فَاسْتَمْسِكُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَخُذُوا بِهِ " فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ، وَرَغَّبَ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: " وَأَهْلُ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ تَعَالَى فِي أَهْلِ بَيْتِي "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ.
حافظ ثناء اللہ

یزید بن حیان فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے درمیان کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ آپ ﷺ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: ”اے لوگو! میں انسان ہوں۔ قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کی بات کو قبول کرلوں (مراد موت)۔ میں تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں: پہلی اللہ کی کتاب، اس میں ہدایت اور نور ہے۔ تم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔“ پھر آپ ﷺ نے اللہ کی کتاب کی ترغیب دی اور ابھارا۔ پھر فرمایا: ”دوسری میرے اہل بیت ہیں، اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20335
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 2408»