السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20329
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، أَنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ: شَاوِرْ طُلَيْحَةَ وَعَمْرَو بْنَ مَعْدِي كَرِبَ فِي أَمْرِ حَرْبِكَ، وَلَا تُوَلِّهِمَا مِنَ الْأَمْرِ شَيْئًا، فَإِنَّ كُلَّ صَانِعٍ هُوَ أَعْلَمُ بِصِنَاعَتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ طلیحہ اور معدیکرب رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے بارے میں مشاورت کرنا لیکن کوئی معاملہ ان کے سپرد نہ کرنا، کیونکہ ہر کام والا اپنے کام کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔