السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20327
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ: قَرَأَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذِهِ الْآيَةَ {مَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} [الحج: ٧٨]، ثُمَّ قَالَ: " ادْعُوا لِي رَجُلًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، فَإِنَّهُمُ الْعَرَبُ "، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَا الْحَرَجُ فِيكُمْ؟ " قَالَ " الضِّيقُ ".حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ [سورة الحج: 78] ”دین کے بارے میں تم پر کوئی حرج نہیں۔“
پھر فرمایا کہ میرے لیے بنو مدلج کے ایک آدمی کو بلاؤ، کیونکہ وہی (اصل) عرب ہیں، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: «حَرَج» کا معنی تمہارے نزدیک کیا ہے؟ اس نے کہا: تنگی۔