السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20321
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ، فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ مُوسَى بْنِ مَرْوَانَ الرَّقِّيِّ، عَنِ الْمُعَافَى بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْحَزْمُ؟ قَالَ: " أَنْ تُشَاوِرَ ذَا رَأْيٍ، ثُمَّ تُطِيعَهُ " وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَزِيرِ عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ذَكَرَ مِثْلَهُ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " ذَا لُبٍّ " أَخْبَرَنَا بِهِمَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، فَذَكَرَهُمَا.حافظ ثناء اللہ
خالد بن معدان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! «حَزْمٌ» کیا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عقل سے مشورہ کرنا، پھر اس کی اطاعت کرنا۔“
(ب) عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی الحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی مثل ہے، صرف اس میں «ذَا اللُّبِّ» کے الفاظ ہیں۔