السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: من يشاور باب: کن لوگوں سے مشورہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20320
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ النَّصِيبِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَرَادَ اللهُ بِالْأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ، إِنْ نَسِيَ ذَكَّرَهُ، وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ، وَإِذَا أَرَادَ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ، إِنْ نَسِيَ لَمْ يُذَكِّرْهُ، وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ ". رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي السُّنَنِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَامِرٍ عَنِ الْوَلِيدِ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب اللہ امیر سے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سچا وزیر مقرر کر دیتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو اس کو یاد کروا دیتا ہے، اگر وہ یاد رکھے تو اس کی اعانت کرتا ہے، اور جب بھلائی کا ارادہ نہ ہو تو اس کا برا وزیر مقرر کر دیتا ہے، اگر وہ بھول جائے تو اسے یاد نہ کروائے اور اگر اسے یاد رہے تو اس کی مدد نہ کرے۔“