السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: مشاورة الوالي والقاضي في الأمر باب: حاکم اور قاضی کا معاملات میں مشورہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 20304
أَخَبَرِنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ: " عَلَّمَهُ اللهُ سُبْحَانَهُ أَنَّهُ مَا بِهِ إِلَيْهِمْ مِنْ حَاجَةٍ، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَنَّ بِهِ مَنْ بَعْدَهُ ".حافظ ثناء اللہ
ابن شبرمہ رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ﴾ [سورة آل عمران: 159] ”ان سے معاملے میں مشورہ کیجیے“ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے بعد والوں کو تعلیم دی ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ کو تو اس کی ضرورت نہ تھی۔