السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : القاضي يأتي الوليمة إذا دعي لها، ويعود المرضى، ويشهد الجنائز باب: قاضی کو جب ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ شریک ہو، بیماروں کی عیادت کرے اور جنازوں میں حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 20296
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِ الْوُفُودُ سَأَلَهُمْ عَنْ أَمِيرِهِمْ: " أَيَعُودُ الْمَرِيضَ؟ أَيُجِيبُ الْعَبْدَ؟ كَيْفَ صَنِيعُهُ؟ مَنْ يَقُومُ عَلَى بَابِهِ؟ " فَإِنْ قَالُوا " لِخَصْلَةٍ مِنْهَا: لَا، عَزَلَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا اسود رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس وفد آتے تو ان سے سوال کرتے: کیا تمہارا امیر بیماروں کی تیمار داری کرتا ہے؟ کیا وہ غلام کی دعوت قبول کرتا ہے؟ اس کا کام کیا ہے؟ اس کے دروازے پر کون ہوتا ہے؟ اگر ان خصلتوں میں سے کسی کا جواب نفی میں دیتے تو وہ اس امیر کو معزول کر دیتے۔