السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: : القاضي يأتي الوليمة إذا دعي لها، ويعود المرضى، ويشهد الجنائز باب: قاضی کو جب ولیمے کی دعوت دی جائے تو وہ شریک ہو، بیماروں کی عیادت کرے اور جنازوں میں حاضر ہو۔
حدیث نمبر: 20295
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ " قِيلَ: " مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللهِ؟ "، قَالَ: " إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْ جِنَازَتَهُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ وَغَيْرِهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔“ کہا گیا: وہ کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”1۔ جب تو مسلمان بھائی سے ملے تو سلام کہہ، 2۔ جب وہ تجھے دعوت دے تو قبول کر، 3۔ جب خیر خواہی طلب کرے تو خیر خواہی کر، 4۔ چھینک کا جواب دے، 5۔ جب وہ بیمار ہو اس کی تیمار داری کر، 6۔ جب وہ فوت ہو جائے تو اس کے نمازِ جنازہ میں شامل ہو۔“