السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقضي وهو غضبان باب: وہ غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20281
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدُ اللهِ الْحَافِظُ، وَالصَّيْرَفِيُّ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ - هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَرُوِيَ مِنْ، وَجْهٍ آخَرَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ یا سیدنا ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں (شک ہے) کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے ایسی چیز سکھائیں جو مجھے نفع دے اور وہ مختصر ہو تاکہ میں اسے یاد رکھ سکوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ اس نے دوبارہ عرض کیا: مجھے ایسی چیز سکھائیں جو مجھے نفع دے۔ آپ ﷺ نے کئی مرتبہ یہی بات دہرائی: ”غصہ نہ کیا کر۔“