السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقضي وهو غضبان باب: وہ غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20278
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: أَوْصِنِي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " لَا تَغْضَبْ "، قَالَ الرَّجُلُ: فَفَكَّرْتُ حِينَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ، فَإِذَا الْغَضَبُ يَجْمَعُ الشَّرَّ كُلَّهُ.حافظ ثناء اللہ
حمید بن عبدالرحمن نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ایک آدمی سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے عرض کیا: مجھے وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”غصہ نہ کیا کر۔“ آدمی نے کہا: میں نے غور و فکر کیا، جب نبی ﷺ نے فرمایا: ”کیونکہ غصہ ہی تمام شر کا مجموعہ ہے۔“