السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: لا يقضي وهو غضبان باب: وہ غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20276
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُوعَوَانَةَ، ثنا ⦗١٨٠⦘ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: " كَتَبَ أَبِي وَكَتَبْتُ لَهُ بِيَدِي إِلَى ابْنِهِ عُبَيْدِ اللهِ وَهُوَ عَلَى سَجِسْتَانَ: " لَا أَعْرِفَنَّ مَا حَكَمْتَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ: " لَا يَحْكُمَنَّ حَكَمٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی بکرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نے لکھا، اور میں نے اسے اپنے ہاتھ سے لکھ کر اپنے بھائی کو بھیجا جو سجستان میں تھے کہ مجھے یہ خبر نہ ملے کہ تو نے دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ کیا ہے؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”قاضی دو آدمیوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے۔“