السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستحب للقاضي من أن لا يكون قضاؤه في المسجد باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر فیصلے نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20264
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَالَ أَعْرَابِيٌّ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ "، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُتَّخَذْ لِهَذَا الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ وَالْخَلَاءِ إِنَّمَا تُتَّخَذُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَلِذِكْرِ اللهِ "، ثُمَّ أَمَرَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَصَبَّهُ عَلَيْهِ. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللهِ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا تو نبی ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے فرمایا: رک، رک! نبی ﷺ نے فرمایا: ”اس کا پیشاب نہ روکو۔“ راوی فرماتے ہیں جب وہ فارغ ہوا تو نبی ﷺ نے بلوایا اور فرمایا: ”مساجد اس لیے نہیں بنائی گئیں یعنی بول و براز اور گندگی کے لیے۔ بلکہ یہ تو قراءتِ قرآن اور اللہ کے ذکر کے لیے بنائی گئی ہیں۔“ پھر آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم دیا وہ ایک ڈول پانی لے کر آئے تو آپ ﷺ نے اس پر ڈال دیا۔
(ب) عکرمہ بن عمار کی حدیث میں ہے کہ: ”اللہ کے ذکر، نماز اور قراءتِ قرآن کے لیے بنائی گئی ہیں۔“