السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: ما يستحب للقاضي من أن لا يكون قضاؤه في المسجد باب: قاضی کے لیے مستحب ہونے کا بیان کہ وہ مسجد میں بیٹھ کر فیصلے نہ کرے۔
حدیث نمبر: 20263
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ أَعْرَابِيًّا، أَوْ رَجُلًا يَقُولُ: مَنْ دَعَا إِلَيَّ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بُنِيَتْ هَذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بُنِيَتْ لَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک دیہاتی یا آدمی کو سنا، جو سرخ اونٹ کا اعلان کر رہا تھا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو نہ پائے، مساجد تو جس کے لیے بنائی گئی ہیں اسی کے لیے ہیں۔“