السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20253
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الطَّبَرَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مُوسَى - يَعْنِي الْيَمَانِيَّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ، قَالَ: " مَنْ سَكَنَ الْبَادِيَةَ جَفَا وَمَنْ تَبِعَ الصَّيْدَ غَفَلَ، وَمَنْ أَتَى السُّلْطَانَ افْتُتِنْ "..حافظ ثناء اللہ
وہب بن منبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوع حدیث روایت فرماتے ہیں: ”جو دیہات میں رہتا ہے وہ سخت ہوتا ہے، جو شکار کا پیچھا کرتا ہے، وہ غافل ہوجاتا ہے اور جو بادشاہ کے پاس آتا ہے آزمائش میں پڑجاتا ہے۔“ [ضعیف]