حدیث نمبر: 20252
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَزْرَقِ، قَالَ: " دَخَلَ رَجُلَانِ مِنَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ، فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَنْفُذُ بَيْنَنَا؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ: " أَنَا "، قَالَ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى، فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ: " مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ ".
حافظ ثناء اللہ

عبدالرحمن بن بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی کندہ کے دروازے سے داخل ہوئے اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہمارے درمیان کوئی آدمی فیصلہ کر دے۔ اس مجلس سے ایک آدمی نے کہا: میں، تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر اس کو ماریں اور فرمایا: رک! کیونکہ فیصلہ میں جلد بازی مکروہ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20252
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»