السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية طلب الإمارة والقضاء وما يكره من الحرص عليهما والتسرع إليهما، وأنه إذا ابتلي بهما عن غير مسألة كان الأمر أسهل، وإلى النجاة أقرب باب: امارت اور قضاء مانگنے کی کراہت، ان کی حرص کرنے اور ان کی طرف جلد بازی کرنے کی ناپسندیدگی کا بیان، اور یہ کہ اگر اسے مانگے بغیر اس آزمائش میں ڈال دیا جائے تو معاملہ آسان ہوتا ہے اور نجات کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 20252
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ رَجَاءٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِشْرٍ الْأَزْرَقِ، قَالَ: " دَخَلَ رَجُلَانِ مِنَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ جَالِسٌ فِي حَلْقَةٍ، فَقَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَنْفُذُ بَيْنَنَا؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْحَلْقَةِ: " أَنَا "، قَالَ فَأَخَذَ أَبُو مَسْعُودٍ كَفًّا مِنْ حَصًى، فَرَمَاهُ بِهِ وَقَالَ: " مَهْ إِنَّهُ كَانَ يُكْرَهُ التَّسَرُّعُ إِلَى الْحُكْمِ ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن بشر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو آدمی کندہ کے دروازے سے داخل ہوئے اور ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ ایک حلقہ میں بیٹھے ہوئے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ہمارے درمیان کوئی آدمی فیصلہ کر دے۔ اس مجلس سے ایک آدمی نے کہا: میں، تو ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مٹھی کنکریاں لے کر اس کو ماریں اور فرمایا: رک! کیونکہ فیصلہ میں جلد بازی مکروہ ہے۔