حدیث نمبر: 20210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبٍ، وَكَانَ قَدْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أوَصَى بَنِيهِ، قَالَ لَهُمْ: " أَيْ بَنِيَّ، إِيَّاكُمْ وَمُخَالَطَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرَّ بِحِلْمِهِ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يُقِرَّ بِقَلِيلِ مَا يَأْتِ بِهِ السَّفِيهُ، يُقِرُّ بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ قَبْلَ ذَلِكَ عَلَى الْأَذَى، وَلْيُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ لَا يَجِدُ مَسَّ الْأَذَى ".
حافظ ثناء اللہ

ابو جعفر خطمی کے دادا عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی: اے میرے بیٹو! بے وقوف لوگوں کی مجالس سے بچنا؛ کیونکہ ان کی مجلس بیماری ہے۔ جو بے وقوف سے درگزر کرتا ہے وہ اپنے درگزر کی وجہ سے خوش کر دیا جاتا ہے اور جو اس کو جواب دیتا ہے وہ نادم ہوتا ہے اور جو انسان اس تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا جو اس کے پاس بے وقوف لے کر آئے، وہ کثیر پر راضی ہو جائے گا۔ جب تم میں سے کسی کا ارادہ ہو کہ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرے تو وہ اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رکھے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے، جو اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ تکلیف کو محسوس نہیں کرتا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20210
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»